صحیح بخاری حدیث ۲۵۲۶ - غلام کا ایک حصہ آزاد کرنے کی روایت

غلام کا ایک حصہ آزاد کرنے کی مختصر حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۲۶

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ عَبْدٍ .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی غلام کا ایک حصہ آزاد کیا۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۵۲۶ کا خلاصہ

یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس کا موضوع واضح ہے: جس نے کسی غلام کا ایک حصہ آزاد کیا۔ اسی باب کی دوسری روایات میں اس مسئلے کی تفصیل آتی ہے کہ اگر غلام مشترک ہو اور ایک شریک اپنا حصہ آزاد کرے تو باقی حصوں کا حکم کیا ہو گا۔ اس خاص روایت میں صرف اصل جملہ نقل ہوا ہے، اس لیے اس کی تشریح کرتے ہوئے اسی حد تک بات کرنی چاہیے جو متن میں موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عتق کا مسئلہ صرف ذاتی نیکی نہیں بلکہ ایک قانونی اور مالی پہلو بھی رکھتا ہے۔ غلام کا حصہ آزاد کرنا ایک سنجیدہ عمل ہے، جس کے بعد باقی حقوق کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس حدیث کے لیے اہم سرچ الفاظ غلام کا حصہ آزاد کرنا، عتق کی حدیث، اور مشترک غلام کا حکم ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مختصر روایت میں بھی اصل شرعی مسئلے کی بنیاد محفوظ ہوتی ہے۔
  • غلام کے ایک حصے کو آزاد کرنا ایک سنجیدہ مالی اور شرعی معاملہ ہے۔
  • متن جتنا بیان کرے، تشریح بھی اسی کے اندر رہنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں