صحیح بخاری حدیث ۲۵۵۷ - خادم کو کھانا کھلانے کی ترغیب

خادم کو کھانا کھلانے کی حدیث: ایک دو لقموں کا حق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۵۷

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ فَليُنَاوِلْهُ لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ أَوْ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ ، فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلَاجَهُ " .

محمد بن زیاد روایت:

میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جب کسی کا غلام کھانا لائے اور وہ اسے اپنے ساتھ (کھلانے کے لیے) نہ بٹھا سکے تو اسے ایک یا دو نوالے ضرور کھلا دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لقمة أو لقمتين» کے بدل «أكلة أو أكلتين» فرمایا (یعنی ایک یا دو لقمے) کیونکہ اسی نے اس کو تیار کرنے کی تکلیف اٹھائی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع خادم سے حسن سلوک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا لائے، اور وہ اسے اپنے ساتھ نہ بٹھا سکے، تو اسے ایک یا دو لقمے ضرور دے دے، کیونکہ اسی نے اس کھانے کی تیاری کی تکلیف اٹھائی ہے۔ یہ حدیث بہت عام فہم انداز میں خدمت کرنے والے کے حق کی یاد دلاتی ہے۔ کھانا صرف مالک کے سامنے نہیں آتا، بلکہ اسے پکانے، سنوارنے اور پیش کرنے میں خادم کی محنت بھی شامل ہوتی ہے۔ اس لیے حدیث نے اس محنت کا خیال رکھنے کی تعلیم دی۔ اردو میں لوگ اسے خادم کو کھانا کھلانے کی حدیث، ایک دو لقمے والی حدیث، اور ملازم کے حقوق کی حدیث کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خادم کو کھانے میں شریک کرنا بہتر صورت کے طور پر سمجھ آتا ہے۔
  • ساتھ نہ بٹھا سکیں تو ایک یا دو لقمے دینے کا حکم آیا ہے۔
  • کھانا تیار کرنے والے کی محنت کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں