صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۸ - کھانے میں برکت اور تقسیم
کھانے میں برکت کی حدیث: ایک بکری اور ایک سو تیس صحابہ
صحیح بخاری : ۲۶۱۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۱۸
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : "كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ ؟ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ ، فَعُجِنَ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةً ، قَالَ : لَا ، بَلْ بَيْعٌ ، فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً ، فَصُنِعَتْ ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى ، وَايْمُ اللَّهِ مَا فِي الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا ، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ ، فَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ ، فَأَكَلُوا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا ، فَفَضَلَتِ الْقَصْعَتَانِ ، فَحَمَلْنَاهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ " .
عبدالرحمٰن بن ابی بکر روایت:
ہم ایک سو تیس آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک سفر میں) تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا کسی کے ساتھ کھانے کی بھی کوئی چیز ہے؟ ایک صحابی کے ساتھ تقریباً ایک صاع کھانا (آٹا) تھا۔ وہ آٹا گوندھا گیا۔ پھر ایک لمبا تڑنگا مشرک پریشان حال بکریاں ہانکتا ہوا آیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ بیچنے کے لیے ہیں۔ یا کسی کا عطیہ ہے یا آپ نے (عطیہ کی بجائے) ہبہ فرمایا۔ اس نے کہا کہ نہیں بیچنے کے لیے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی پھر وہ ذبح کی گئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کلیجی بھوننے کے لیے کہا۔ قسم اللہ کی ایک سو تیس اصحاب میں سے ہر ایک کو اس کلیجی میں سے کاٹ کے دیا۔ جو موجود تھے انہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ہی دے دیا اور جو اس وقت موجود نہیں تھے ان کا حصہ محفوظ رکھ لیا۔ پھر بکری کے گوشت کو دو بڑی قابوں میں رکھا گیا اور سب نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ جو کچھ قابوں میں بچ گیا تھا اسے اونٹ پر رکھ کر ہم واپس لائے۔ او کما قال۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع کھانے میں برکت، خرید و فروخت اور انصاف سے تقسیم ہے۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک سو تیس آدمی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تھے۔ تھوڑا سا آٹا موجود تھا۔ پھر ایک مشرک بکریاں لے کر آیا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ یہ فروخت ہیں یا عطیہ۔ اس نے بتایا کہ فروخت ہیں، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک بکری خریدی۔ اس کی کلیجی بھونی گئی اور ایک سو تیس میں سے ہر شخص کو حصہ ملا۔ جو موجود تھا اسے دیا گیا اور جو غیر حاضر تھا اس کا حصہ محفوظ رکھا گیا۔ پھر سب نے کھایا، سیر ہوئے، اور کھانا بچ بھی گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانے کی تقسیم میں موجود اور غیر حاضر دونوں کا خیال رکھا گیا۔
- خرید و فروخت کو واضح کیا گیا کہ یہ بیع ہے یا عطیہ۔
- اللہ کے حکم سے کم چیز میں بھی برکت ہو سکتی ہے۔
- جماعت میں کھانا بانٹتے وقت انصاف کا خیال رکھنا چاہیے۔
