صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۷ - معافی اور زہر والی بکری

زہر والی بکری کی حدیث: سخت موقع پر معافی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۱۷

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ ، فَأَكَلَ مِنْهَا ، فَجِيءَ بِهَا ، فَقِيلَ : أَلَا نَقْتُلُهَا ؟ قَالَ : لَا ، فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

انس بن مالک روایت:

ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زہر ملا ہوا بکری کا گوشت لائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا (لیکن فوراً ہی فرمایا کہ اس میں زہر پڑا ہوا ہے) پھر جب اسے لایا گیا (اور اس نے زہر ڈالنے کا اقرار بھی کر لیا) تو کہا گیا کہ کیوں نہ اسے قتل کر دیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس زہر کا اثر میں نے ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں محسوس کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک یہودی عورت زہر ملا ہوا بکری کا گوشت نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں لائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا۔ پھر وہ عورت لائی گئی اور کہا گیا کہ کیا اسے قتل نہ کر دیا جائے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس زہر کا اثر وہ نبی صلى الله عليه وسلم کے تالو میں محسوس کرتے رہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع اس واقعے میں نبی صلى الله عليه وسلم کا صبر اور قتل نہ کرنے کا حکم ہے۔ یہاں ہمیں متن سے باہر جا کر لمبی تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔ جو بات صاف ہے وہ یہ ہے کہ بہت سخت نقصان کے باوجود آپ صلى الله عليه وسلم نے اس موقع پر قتل کا حکم نہیں دیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اس واقعے میں قتل کا حکم نہیں دیا۔
  • بڑے نقصان کے موقع پر بھی صبر کا پہلو سامنے آیا۔
  • حدیث کے متن سے باہر غیر ضروری تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم نے واقعے کا اثر بھی بیان کیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں