صحیح بخاری حدیث ۲۶۳۲ - زمین خود کاشت کرو یا بھائی کو دو
زمین سے متعلق حدیث: خود کاشت کریں یا بھائی کو دے دیں
صحیح بخاری : ۲۶۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۳۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَتْ لِرِجَالٍ مِنَّا فُضُولُ أَرَضِينَ ، فَقَالُوا : نُؤَاجِرُهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ " .
جابر روایت:
ہم میں سے بہت سے اصحاب کے پاس فالتو زمین بھی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ تہائی یا چوتھائی یا نصف کی بٹائی پر ہم کیوں نہ اسے دے دیا کریں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کے پاس زمین ہو تو اسے خود بونی چاہئے یا پھر کسی اپنے بھائی کو ہدیہ کر دینی چاہئے اور اگر ایسا نہیں کرتا تو پھر زمین اپنے پاس رکھے رہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۶۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بعض صحابہ کے پاس فالتو زمین تھی۔ انہوں نے سوچا کہ اسے تہائی، چوتھائی یا نصف پیداوار پر دے دیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس زمین ہو وہ خود اسے بوئے، یا اپنے بھائی کو ہدیہ کر دے، اور اگر ایسا نہ کرے تو زمین اپنے پاس رکھے۔ اس زمین کی حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ مالک اپنی زمین کو فائدہ مند بنائے، یا اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچائے۔ روایت میں زمین کے استعمال، ہدیہ اور باہمی تعاون کا پہلو ہے۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ فالتو چیز کو اچھے مصرف میں لگانا پسندیدہ انداز ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زمین ہو تو اسے بے فائدہ چھوڑنے کے بجائے کاشت کرنا بہتر ہے۔
- کسی بھائی کو زمین سے فائدہ پہنچانا اچھا عمل ہے۔
- مالی معاملے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کے مطابق احتیاط کرنی چاہیے۔
