صحیح بخاری حدیث ۲۶۳۴ - زمین ہدیہ دینا بہتر ہے
زمین ہدیہ دینے کی حدیث: اجرت کے بجائے بھائی کو فائدہ دینا
صحیح بخاری : ۲۶۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۳۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَاكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أَرْضٍ تَهْتَزُّ زَرْعًا ، فَقَالَ : لِمَنْ هَذِهِ ؟ فَقَالُوا : اكْتَرَاهَا فُلَانٌ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَوْ مَنَحَهَا إِيَّاهُ كَانَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا أَجْرًا مَعْلُومًا " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایسے کھیت کی طرف تشریف لے گئے جس کی کھیتی لہلہا رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”یہ کس کا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتلایا کہ فلاں نے اسے کرایہ پر لیا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر وہ ہدیتاً دے دیتا تو اس سے بہتر تھا کہ اس پر ایک مقررہ اجرت وصول کرتا۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۶۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے کھیت کی طرف تشریف لے گئے جس کی کھیتی لہلہا رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کس کا ہے؟ بتایا گیا کہ فلاں شخص نے اسے کرایہ پر لیا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ اسے ہدیہ کے طور پر دے دیتا تو یہ اس کے لیے مقررہ اجرت لینے سے بہتر تھا۔ اس روایت کا موضوع زمین، کرایہ اور ہدیہ ہے۔ زمین ہدیہ دینے کی حدیث میں باہمی فائدہ رسانی کی ترغیب ہے۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ کبھی انسان اپنے مال سے بھائی کو فائدہ دے تو یہ اجرت لینے سے بہتر صورت ہو سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کو زمین سے فائدہ دینا اچھا عمل ہے۔
- ہر معاملے میں صرف اجرت ہی مقصد نہیں ہونی چاہیے۔
- مالی فائدے کے ساتھ خیر خواہی کا پہلو بھی دیکھنا چاہیے۔
