صحیح بخاری حدیث ۲۶۴۷ - رضاعت کم سنی میں معتبر ہے
رضاعت کم سنی میں معتبر ہے: رضاعی بھائی کی پہچان
صحیح بخاری : ۲۶۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۴۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ ، قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، قَالَ : يَا عَائِشَةُ ، " انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ " . تَابَعَهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (گھر میں) تشریف لائے تو میرے یہاں ایک صاحب (ان کے رضاعی بھائی) بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، عائشہ! یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! ذرا دیکھ بھال کر لو، کون تمہارا رضاعی بھائی ہے۔ کیونکہ رضاعت وہی معتبر ہے جو کم سنی میں ہو۔محمد بن کثیر کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے سفیان ثوری سے روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک صاحب بیٹھے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو پوچھا کہ یہ کون ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یہ میرے رضاعی بھائی ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھ بھال کر لو، کون تمہارا رضاعی بھائی ہے، کیونکہ رضاعت وہی معتبر ہے جو کم سنی میں ہو۔ اس حدیث کا اصل موضوع رضاعت کی تحقیق اور کم سنی کی رضاعت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دعویٰ فوراً کافی نہیں، بلکہ رضاعی رشتے کو سمجھ کر اور جانچ کر ماننا چاہیے۔ یہ بات نکاح، پردہ اور محرمیت کے معاملات میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رضاعی رشتہ ثابت کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔
- حدیث میں کم سنی کی رضاعت کو معتبر بتایا گیا ہے۔
- محرمیت کے دعوے کو بغیر تحقیق قبول نہیں کرنا چاہیے۔
- نکاح اور پردہ کے احکام میں رضاعت کا اثر ہو سکتا ہے۔
