صحیح بخاری حدیث ۲۶۶۸ - مدعیٰ علیہ پر قسم کا فیصلہ

دعویٰ اور قسم کی حدیث: مقدمے میں ذمہ داری کا اصول

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۶۸

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " .

ابن ابی ملیکہ روایت:

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لکھا تھا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعیٰ علیہ کے لیے قسم کھانے کا فیصلہ کیا تھا۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۶۶۸ کا خلاصہ

اس مختصر حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعیٰ علیہ کے لیے قسم کا فیصلہ فرمایا۔ اس حدیث کا موضوع دعویٰ، مقدمہ، گواہی اور قسم ہے۔ جب کوئی شخص کسی پر دعویٰ کرتا ہے تو معاملہ صرف زبانی بات پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ شرعی فیصلہ اصول کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس روایت میں خاص طور پر بتایا گیا کہ قسم مدعیٰ علیہ پر رکھی گئی۔ اس سے مقدمات میں نظم، ذمہ داری اور احتیاط کا سبق ملتا ہے۔ دعویٰ کی حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اسلام میں انصاف اندازے یا جذبات سے نہیں، بلکہ دلیل، گواہی اور مقرر اصول کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ اصول معاشرتی جھگڑوں کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مقدمے میں صرف دعویٰ کافی نہیں، اصولی طریقہ ضروری ہے۔
  • مدعیٰ علیہ پر قسم کا فیصلہ حدیث میں بیان ہوا ہے۔
  • انصاف جذبات کے بجائے دلیل اور ضابطے سے ہوتا ہے۔
  • جھگڑوں میں شرعی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں