صحیح بخاری حدیث ۲۸۶۳ - مال غنیمت میں گھوڑے کا حصہ

مال غنیمت میں گھوڑے کے حصے کی حدیث اور جہاد کا نظم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۶۳

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِصَاحِبِهِ سَهْمًا ،

ابن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت سے) گھوڑے کے دو حصے لگائے تھے اور اس کے مالک کا ایک حصہ۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع مال غنیمت کی تقسیم ہے، خاص طور پر جنگ میں گھوڑے کے حصے کی حدیث۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں گھوڑے کے لیے دو حصے اور اس کے مالک کے لیے ایک حصہ مقرر فرمایا۔ اس سے بات صاف ہوتی ہے کہ جہاد کے موقع پر سواری اور جنگی تیاری کو الگ حیثیت دی گئی۔ حدیث میں صرف اتنی بات بیان ہوئی ہے کہ گھوڑے کا حصہ دو تھا اور مالک کا حصہ ایک۔ اس لیے یہاں اصل سبق نظم، انصاف اور عملی ضرورت کا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے گھوڑے کے ساتھ شریک ہو تو اس کی سواری بھی جہاد کے کام میں آتی ہے، اسی لیے تقسیم میں اس کا لحاظ رکھا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال غنیمت کی تقسیم میں واضح اصول رکھا گیا۔
  • جنگی سواری کی ضرورت کو الگ طور پر مانا گیا۔
  • حدیث ہمیں نظم اور عدل کے ساتھ تقسیم کا سبق دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں