صحیح بخاری حدیث ۳۱۶۶ - ذمی کے قتل کی سخت وعید
ذمی کو قتل کرنے کی حدیث اور جان کی حرمت
صحیح بخاری : ۳۱۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۶۶
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عنه ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی ذمی کو (ناحق) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۱۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع جان کی حرمت اور عہد کی حفاظت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی معاہد یا ذمی کو ناحق قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ الفاظ بہت سخت ہیں، اس لیے اس حدیث کو معمولی بات سمجھنا درست نہیں۔ یہاں ذمی سے مراد وہ غیر مسلم ہے جو مسلمانوں کے ساتھ عہد اور حفاظت کے دائرے میں ہو۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ کسی محفوظ جان پر ظلم کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ اسلام میں عہد، امان، اور جان کا احترام ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے۔ یہ حدیث معاہد کی جان کی حرمت کو صاف لفظوں میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی معاہد یا ذمی کی جان کو ناحق نقصان پہنچانا سخت گناہ ہے۔
- عہد اور امان کی حفاظت مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
- جان کے معاملے میں ظلم کو حدیث نے بہت سخت انداز میں روکا ہے۔
- غیر مسلم معاہد کے حقوق کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔
