صحیح بخاری حدیث ۳۲۵ - استحاضہ میں نماز کا حکم
استحاضہ میں نماز: فاطمہ بنت ابی حبیشؓ کا سوال
صحیح بخاری : ۳۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۵
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ : " لَا ، إِنَّ ذَلِكِ عِرْقٌ ، وَلَكِنْ دَعِي الصَّلَاةَ قَدْرَ الْأَيَّامِ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي " .
عائشہ روایت:
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں ہو پاتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ یہ تو ایک رگ کا خون ہے، ہاں اتنے دنوں میں نماز ضرور چھوڑ دیا کر جن میں اس بیماری سے پہلے تمہیں حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر کے نماز پڑھا کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں ہو پاتی، تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ ایک رگ کا خون ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں بتایا کہ جن دنوں میں پہلے حیض آیا کرتا تھا، اتنے دن نماز چھوڑ دیں۔ اس کے بعد غسل کریں اور نماز پڑھیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع استحاضہ میں نماز کا حکم ہے۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ استحاضہ کو عام حیض کے حکم میں نہیں رکھا گیا۔ حیض کے مقررہ دنوں میں نماز چھوڑنے کا ذکر آیا، پھر غسل کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ اس لیے استحاضہ کی حدیث عورتوں کے لیے ایک آسان اور واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- استحاضہ کا خون حیض جیسا حکم نہیں رکھتا، اسے روایت میں رگ کا خون کہا گیا ہے۔
- عورت اپنے سابقہ حیض کے دنوں کے مطابق نماز چھوڑے، پھر غسل کر کے نماز پڑھے۔
- دینی مسئلہ پیش آئے تو اہل علم سے صاف سوال کرنا چاہیے، جیسے فاطمہؓ نے کیا۔
