صحیح بخاری حدیث ۳۲۶ - زرد اور مٹیالے رنگ کا حکم
زرد اور مٹیالے رنگ کے بارے میں ام عطیہؓ کی روایت
صحیح بخاری : ۳۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " كُنَّا لَا نَعُدُّ الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ شَيْئًا " .
ام عطیہ روایت:
ہم زرد اور مٹیالے رنگ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا مختصر مگر اہم بیان ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ ہم زرد اور مٹیالے رنگ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں۔ روایت کے الفاظ بہت مختصر ہیں، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد تک رکھنی چاہیے۔ اس میں زرد رنگ، مٹیالا رنگ، کدرہ اور صفرہ کے بارے میں صحابیات کے عمل کا ذکر ہے۔ حائضہ عورت کے احکام میں یہ بات لوگوں کے لیے سوال بن سکتی ہے کہ مختلف رنگ کے اثرات کا کیا حکم ہے۔ اس حدیث میں ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وہ اسے کوئی چیز شمار نہیں کرتی تھیں۔ یہاں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس روایت سے صرف اتنا ہی لینا مناسب ہے کہ صحابیات کے ہاں زرد اور مٹیالے رنگ کو الگ اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زرد اور مٹیالے رنگ کے بارے میں صحابیات کا عمل روایت میں بیان ہوا ہے۔
- مختصر حدیث کو سمجھتے وقت اسی کے الفاظ تک رہنا چاہیے۔
- دینی مسائل میں صحابیات کے عمل سے بھی رہنمائی ملتی ہے۔
