صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۵ - نیند سے اٹھ کر ناک جھاڑنے کی سنت
نیند سے اٹھ کر ناک جھاڑنا: وضو کی اہم سنت
صحیح بخاری : ۳۲۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۹۵
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أُرَاهُ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ ، فَتَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثًا ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيْشُومِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کوئی شخص سو کر اٹھے اور پھر وضو کرے تو تین مرتبہ ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان رات بھر اس کی ناک کے نتھنے پر بیٹھا رہتا ہے (جس سے آدمی پر سستی غالب آ جاتی ہے۔ پس ناک جھاڑنے سے وہ سستی دور ہو جائے گی)۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں وضو کے ایک خاص ادب کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نیند سے اٹھے اور وضو کرے تو تین مرتبہ ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان رات بھر اس کی ناک کے نتھنے پر بیٹھا رہتا ہے۔ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ نیند سے اٹھنے کے بعد وضو میں ناک صاف کرنا خاص طور پر اہم ہے۔ اس عمل میں صفائی بھی ہے اور حدیث کے بیان کے مطابق شیطان کے اثر سے بچنے کی تعلیم بھی ہے۔ بندہ جب صبح اٹھتا ہے تو وضو کے ذریعے اپنے دن کی ابتدا پاکیزگی سے کرتا ہے۔ تین مرتبہ ناک جھاڑنا ایک سادہ عمل ہے، مگر نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے واضح طور پر بتایا، اس لیے اسے معمول بنانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیند سے اٹھ کر وضو کرتے وقت ناک تین مرتبہ جھاڑنی چاہیے۔
- اسلام صفائی اور پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔
- صبح کے آغاز میں وضو انسان کو عبادت کے لیے تیار کرتا ہے۔
- حدیث کے مطابق شیطان رات ناک کے نتھنے پر رہتا ہے۔
