صحیح بخاری حدیث ۳۳۱۷ - غار میں سانپ اور اللہ کی حفاظت
غار میں سانپ نکلنے والی حدیث اور اللہ کی حفاظت
صحیح بخاری : ۳۳۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۱۷
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَإِنَّا لَنَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ إِذْ خَرَجَتْ حَيَّةٌ مِنْ جُحْرِهَا فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا فَسَبَقَتْنَا فَدَخَلَتْ جُحْرَهَا ، فَقَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا " وَعَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ ، قَالَ : وَإِنَّا لَنَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً ، وَتَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، وَقَالَ حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ .
عبداللہ بن مسعود روایت:
مقام منیٰ میں) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آیت «والمرسلات عرفا» نازل ہوئی، ابھی ہم آپ کی زبان مبارک سے اسے سن ہی رہے تھے کہ ایک بل میں سے ایک سانپ نکلا۔ ہم اسے مارنے کے لیے جھپٹے، لیکن وہ بھاگ گیا اور اپنے بل میں داخل ہو گیا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) اس پر فرمایا ”تمہارے ہاتھ سے وہ اسی طرح بچ نکلا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے“ اور یحییٰ نے اسرائیل سے روایت کیا ہے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح روایت کیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس سورۃ کو تازہ بتازہ سن رہے تھے اور اسرائیل کے ساتھ اس حدیث کو ابوعوانہ نے مغیرہ سے روایت کیا اور حفص بن غیاث اور ابومعاویہ اور سلیمان بن قرم نے بھی اعمش سے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے، اسی وقت سورہ المرسلات نازل ہوئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن رہے تھے۔ اسی دوران ایک بل سے سانپ نکلا۔ صحابہ اسے مارنے کے لیے تیزی سے بڑھے، مگر وہ ان سے پہلے اپنے بل میں داخل ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔ اس حدیث میں سانپ، بچاؤ، اور اللہ کی حفاظت کا پہلو موجود ہے۔ ساتھ ہی قرآن کے تازہ نزول کو سننے کا خوبصورت منظر بھی متن میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن براہ راست سنتے تھے۔
- سانپ کے نکلنے پر صحابہ نے فوری بچاؤ کی کوشش کی۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طرف کے بچ جانے کا ذکر فرمایا۔
- کبھی خطرہ ٹل جانا بھی اللہ کی طرف سے حفاظت ہوتا ہے۔
