صحیح بخاری حدیث ۳۴۱ - تیمم میں چہرہ اور ہتھیلیاں کافی ہیں

تیمم کا آسان طریقہ: چہرہ اور ہتھیلیوں کا مسح

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، قَالَ : قَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ : تَمَعَّكْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَكْفِيكَ الْوَجْهَ وَالْكَفَّانِ " .

عمار روایت:

میں تو زمین میں لوٹ پوٹ ہو گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے لیے صرف چہرے اور پہنچوں پر مسح کرنا کافی تھا (زمین پر لیٹنے کی ضرورت نہ تھی)۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۱ کا خلاصہ

یہ حدیث تیمم کا طریقہ بہت سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جب پانی نہ ملنے کی صورت میں مٹی پر لوٹ پوٹ ہونے کا عمل کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ اتنا کرنا ضروری نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تیرے لیے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کرنا کافی تھا۔ اس سے تیمم کی حدیث، جنابت میں تیمم، اور پانی نہ ملنے پر نماز جیسے سوالات کا بنیادی جواب ملتا ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ عبادت میں شریعت کی بتائی ہوئی آسان صورت اختیار کی جائے، اپنی طرف سے سختی نہ بڑھائی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کیا جا سکتا ہے۔
  • تیمم میں چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کافی بتایا گیا ہے۔
  • عبادت میں اپنی طرف سے غیر ضروری سختی شامل نہیں کرنی چاہیے۔
  • مسئلہ سمجھ نہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہی اصل معیار ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں