صحیح بخاری حدیث ۳۴۰ - تیمم میں ہاتھوں پر پھونکنے کا بیان

تیمم کے واقعے میں ہاتھوں پر پھونکنے کا ذکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۰

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ شَهِدَ عُمَرَ ، وَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ : كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ ، فَأَجْنَبْنَا ، فَقَالَ : " تَفَلَ فِيهِمَا " .

´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے حکم کے واسطہ سے حدیث بیان کی، وہ ذر بن عبداللہ سے، وہ ابن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، وہ اپنے والد سے کہ` وہ عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے اور عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم ایک لشکر میں گئے ہوئے تھے۔ پس ہم دونوں جنبی ہو گئے۔ اور (اس میں ہے کہ بجائے «نفخ فيهما‏» کے) انہوں نے «تفل فيهما‏» کہا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۰ کا خلاصہ

اس روایت میں عبدالرحمٰن بن ابزی کے والد کا بیان ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے، اور عمار رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم ایک لشکر میں گئے ہوئے تھے، پھر ہم دونوں جنبی ہو گئے۔ اس روایت میں پچھلے واقعے کے ایک لفظ کا ذکر آیا ہے کہ انہوں نے نفخ کے بجائے تفل کہا، یعنی ہاتھوں میں پھونکنے یا ہلکا سا پھونکنے کے الفاظ کی روایت بیان ہوئی۔ اس حدیث کا اصل موضوع تیمم کی روایت کے الفاظ اور جنابت میں پانی نہ ملنے کا مسئلہ ہے۔ اس میں مکمل طریقہ تفصیل سے نہیں دہرایا گیا، بلکہ اسی واقعے کی سند اور لفظی فرق بیان ہوا ہے۔ اس لیے اسے پچھلی تیمم والی احادیث کے ساتھ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے واقعے کے ضمن میں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت عمارؓ کے تیمم والے واقعے کی ایک دوسری نقل بیان کرتی ہے۔
  • حدیث میں الفاظ کے فرق کو راویوں نے امانت کے ساتھ نقل کیا۔
  • جنابت میں پانی نہ ملنے کا مسئلہ نبی صلى الله عليه وسلم کی رہنمائی سے واضح ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں