صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۸ - صوم داؤد اور عبادت میں اعتدال
صوم داؤد: روزہ اور رات کی عبادت میں اعتدال کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۱۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۱۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَخْبَرَهُ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَقُولُ وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ ، قُلْت : قَدْ قُلْتُهُ ، قَالَ : إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ ، فَقُلْت : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
عبداللہ بن عمرو روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ میں نے کہا ہے کہ اللہ کی قسم ‘ جب تک میں زندہ رہوں گا ‘ دن میں روزے رکھوں گا اور رات بھر عبادت کیا کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں نے یہ کہا ہے کہ اللہ کی قسم جب تک زندہ رہوں گا دن بھر روزے رکھوں گا اور رات بھر عبادت کروں گا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں میں نے یہ جملہ کہا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے نبھا نہیں سکو گے ‘ اس لیے روزہ بھی رکھا کرو اور بغیر روزے کے بھی رہا کرو اور رات میں عبادت بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو۔ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو ‘ کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملتا ہے اس طرح روزہ کا یہ طریقہ بھی (ثواب کے اعتبار سے) زندگی بھر کے روزے جیسا ہو جائے گا۔میں نے کہا کہ میں اس سے افضل طریقہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کرو اور دو دن بغیر روزے کے رہا کرو۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی افضل طریقے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا کرو۔ داؤد علیہ السلام کے روزے کا طریقہ بھی یہی تھا اور یہی سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس سے بھی افضل طریقے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے افضل اور کوئی طریقہ نہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے۔ انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ وہ ہمیشہ دن میں روزہ رکھیں گے اور رات بھر عبادت کریں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ تم اسے نبھا نہیں سکو گے۔ پھر آپ نے روزہ رکھنے اور چھوڑنے، عبادت کرنے اور سونے کا طریقہ بتایا۔ ہر مہینے تین روزوں کا ذکر آیا، پھر ایک دن روزہ اور دو دن افطار، پھر صوم داؤد کا ذکر ہوا کہ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔ اس حدیث کا اصل پیغام عبادت میں اعتدال ہے۔ انسان جو عمل کرے وہ ایسا ہو جسے جسم، وقت اور زندگی کے ساتھ نبھا سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبادت میں ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو نبھ سکے۔
- روزہ بھی رکھنا ہے اور جسم کے حق کا خیال بھی رکھنا ہے۔
- رات کی عبادت کے ساتھ نیند بھی ضروری ہے۔
- صوم داؤد کو اس حدیث میں افضل طریقہ بتایا گیا ہے۔
