صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۹ - مسلسل روزہ اور رات بھر عبادت سے رہنمائی

صوم داؤد اور جسم کا حق: عبادت میں توازن کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۱۹

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ ، فَقُلْت : نَعَمْ ، فَقَالَ : فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتِ الْعَيْنُ وَنَفِهَتِ النَّفْسُ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ أَوْ كَصَوْمِ الدَّهْرِ ، قُلْتُ : إِنِّي أَجِدُ بِي ، قَالَ مِسْعَرٌ : يَعْنِي قُوَّةً ، قَالَ : فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى " .

عبداللہ بن عمرو بن عاص روایت:

مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”کیا میری یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن بھر (روزانہ) روزہ رکھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تم اسی طرح کرتے رہے تو تمہاری آنکھیں کمزور ہو جائیں گی اور تمہارا جی اکتا جائے گا۔ ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو کہ یہی (ثواب کے اعتبار سے) زندگی بھر کا روزہ ہے ‘ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) زندگی بھر کے روزے کی طرح ہے۔میں نے عرض کیا کہ میں اپنے میں محسوس کرتا ہوں ‘ مسعر نے بیان کیا کہ آپ کی مراد قوت سے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھا کرو۔ وہ ایک دن روزے رکھا کرتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے اور دشمن سے مقابلہ کرتے تو میدان سے بھاگا نہیں کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن بھر روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ایسا کرتے رہے تو آنکھیں کمزور ہو جائیں گی اور نفس اکتا جائے گا۔ پھر ہر مہینے تین روزوں کا طریقہ بتایا، اور قوت کا ذکر آنے پر صوم داؤد کا طریقہ بتایا کہ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ داؤد علیہ السلام دشمن کے مقابلے میں بھاگتے نہیں تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا بہترین انداز وہ ہے جو قوت، ہمت اور ذمہ داری کو کمزور نہ کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جسم اور آنکھوں کا حق نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
  • عبادت میں اتنا بوجھ نہ ڈالا جائے کہ دل اکتا جائے۔
  • صوم داؤد ایک متوازن روزے کا طریقہ ہے۔
  • عبادت کے ساتھ ذمہ داری اور ہمت بھی باقی رہنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں