صحیح بخاری حدیث ۳۴۳ - تیمم میں ہاتھ زمین پر مار کر مسح

تیمم کا عملی طریقہ: زمین پر ہاتھ مار کر مسح

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَمَّارٌ : " فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ " .

عمار روایت:

پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا اور اس سے اپنے چہرے اور پہنچوں کا مسح کیا“۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں تیمم کا طریقہ عمل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ عمار رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، پھر اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ یہ الفاظ تیمم کی حدیث کو بہت واضح بنا دیتے ہیں، کیونکہ یہاں صرف حکم نہیں بلکہ طریقہ بھی موجود ہے۔ پانی نہ ملے، یا انسان ایسی حالت میں ہو جہاں غسل یا وضو کے لیے پانی نہ ہو، تو پاک مٹی سے تیمم کی اجازت شریعت کی آسانی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس روایت میں زیادہ تفصیل نہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے کہ تیمم میں چہرہ اور ہتھیلیاں شامل ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تیمم میں ہاتھ زمین پر مارنے کا ذکر آیا ہے۔
  • چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح حدیث کے الفاظ سے ثابت ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طریقے سے مسئلہ سمجھایا۔
  • پانی نہ ملنے پر عبادت چھوڑنے کے بجائے شرعی بدل اختیار کیا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں