صحیح بخاری حدیث ۳۵۰ - سفر کی نماز دو رکعت

سفر کی نماز اور دو رکعت کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : "فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ حِينَ فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ " .

عائشہ روایت:

اللہ تعالیٰ نے پہلے نماز میں دو دو رکعت فرض کی تھی۔ سفر میں بھی اور اقامت کی حالت میں بھی۔ پھر سفر کی نماز تو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھی گئی اور حالت اقامت کی نمازوں میں زیادتی کر دی گئی۔

صحیح بخاری حدیث ۳۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نماز کی ابتدا سے متعلق ایک مختصر مگر اہم بات بیان کرتی ہیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ جب نماز فرض ہوئی تو حضر اور سفر دونوں حالتوں میں دو دو رکعت فرض کی گئی۔ بعد میں سفر کی نماز اپنی اصل حالت پر باقی رکھی گئی، جبکہ اقامت یعنی گھر یا شہر میں رہنے کی حالت کی نمازوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ اس سے سفر کی نماز، قصر نماز، اور نماز کی رکعتوں کے بارے میں بنیادی بات سمجھ آتی ہے۔ حدیث میں صرف یہی مضمون ہے، اس لیے اس سے آگے تفصیلی فقہی شرائط شامل نہیں کی گئیں۔ اصل بات یہ ہے کہ سفر میں آسانی کی صورت باقی رکھی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز ابتدا میں دو دو رکعت فرض ہوئی تھی۔
  • سفر کی نماز اپنی پہلی حالت پر باقی رکھی گئی۔
  • اقامت کی نمازوں میں بعد میں اضافہ کیا گیا۔
  • حدیث نماز سفر کے بارے میں ایک بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں