صحیح بخاری حدیث ۳۷۴۲ - نیک ساتھی اور صحابہ کی فضیلت
نیک ساتھی کی دعا اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت
صحیح بخاری : ۳۷۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۴۲
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قَدِمْتُ الشَّأْمَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمّ قُلْتُ : اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَأَتَيْتُ قَوْمًا فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ , فَإِذَا شَيْخٌ قَدْ جَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَقُلْتُ : إِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صالحًا ، قَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ، قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، قَالَ : أَوَلَيْسَ عِنْدَكُمْ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ , وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ , وَفِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ سِرِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي لَا يَعْلَمُ أَحَدٌ غَيْرُهُ ، ثُمَّ قَالَ :كَيْفَ يَقْرَأُ عَبْدُ اللَّهِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى { 1 } وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى { 2 } سورة الليل آية 1-2 , 0 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0 , قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ " .
´ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ` میں جب شام آیا تو میں نے دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کوئی نیک ساتھی عطا فرما۔ پھر میں ایک قوم کے پاس آیا اور ان کی مجلس میں بیٹھ گیا، تھوڑی ہی دیر بعد ایک بزرگ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ کوئی نیک ساتھی مجھے عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجھے عنایت فرمایا۔ انہوں نے دریافت کیا، تمہارا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کوفہ ہے۔ انہوں نے کہا کیا تمہارے یہاں «ابن أم عبد صاحب النعلين والوساد والمطهرة» (یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دے چکا ہے کہ وہ انہیں کبھی غلط راستے پر نہیں لے جا سکتا۔ (مراد عمار رضی اللہ عنہ سے تھی) کیا تم میں وہ نہیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے بہت سے بھیدوں کے حامل ہیں جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ (یعنی حذیفہ رضی اللہ عنہ) اس کے بعد انہوں نے دریافت فرمایا: عبداللہ رضی اللہ عنہ آیت «والليل إذا يغشى» کی تلاوت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے انہیں پڑھ کر سنائی کہ «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * والذكر والأنثى» اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے مجھے بھی اسی طرح یاد کرایا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نیک ساتھی کی دعا، صحابہ کی فضیلت، اور قرآن کی قراءت کا ذکر ہے۔ علقمہ کہتے ہیں کہ وہ شام آئے، دو رکعت نماز پڑھی اور دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کوئی نیک ساتھی عطا فرما۔ پھر وہ ایک مجلس میں بیٹھے تو ابودرداء رضی اللہ عنہ آ کر ان کے پاس بیٹھ گئے۔ علقمہ نے بتایا کہ انہوں نے اللہ سے نیک ساتھی کی دعا کی تھی، تو اللہ نے انہیں ابودرداء رضی اللہ عنہ عطا فرمائے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے صحابہ کا ذکر کیا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ، اور حذیفہ رضی اللہ عنہ۔ پھر انہوں نے سورہ واللیل کی قراءت کے بارے میں پوچھا اور بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں اسی طرح پڑھایا تھا۔ اس حدیث میں نیک صحبت، علم، اور صحابہ کی قدر کا خوبصورت سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک ساتھی کے لیے اللہ سے دعا کرنا اچھا عمل ہے۔
- ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے بڑے صحابہ کی فضیلت یاد دلائی۔
- قرآن کی قراءت صحابہ نے نبی صلى الله عليه وسلم سے سیکھی اور آگے نقل کی۔
- علمی مجلس میں سوال و جواب سے فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
