صحیح بخاری حدیث ۳۷۴۶ - حسن رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں کی صلح
حسن رضی اللہ عنہ کی صلح والی حدیث: مسلمانوں کو جوڑنے کا سبق
صحیح بخاری : ۳۷۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۴۶
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، عَنْ الْحَسَنِ ، سَمِعَ أَبَا بَكْرَةَ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ إِلَى جَنْبِهِ يَنْظُرُ إِلَى النَّاسِ مَرَّةً وَإِلَيْهِ مَرَّةً ، وَيَقُولُ : " ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
ابوبکرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور پھر حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اور فرماتے: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۴۶ کا خلاصہ
یہ حدیث صلح اور مسلمانوں کے باہمی تعلق کو سمجھاتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم منبر پر تھے اور حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کبھی لوگوں کی طرف دیکھتے اور کبھی حسن رضی اللہ عنہ کی طرف، پھر فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔ اس حدیث میں حسن رضی اللہ عنہ کی فضیلت بھی ہے اور صلح کی اہمیت بھی۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں سردار فرمایا، مگر ساتھ ہی اصل بات یہ بیان ہوئی کہ ان کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان میل ہو گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑائی صرف غلبے میں نہیں، کبھی مسلمانوں کو ٹکراؤ سے بچانے میں بھی ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمانوں کے درمیان صلح کرانا بڑی قدر والی بات ہے۔
- حسن رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سردار فرمایا۔
- اختلاف کے وقت امت کو جوڑنے کی کوشش قابل تعریف ہے۔
- بڑائی صرف قوت میں نہیں، سمجھ داری اور صلح میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔
