صحیح بخاری حدیث ۳۷۴۵ - اہل نجران کے لیے امین صحابی
اہل نجران اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ: امانت داری کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۷۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۴۵
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ : " لَأَبْعَثَنَّ يَعْنِي عَلَيْكُمْ يَعْنِي أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ " , فَأَشْرَفَ أَصْحَابُهُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
حذیفہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا کہ میں تمہارے یہاں ایک امین کو بھیجوں گا جو حقیقی معنوں میں امین ہو گا۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شوق ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۴۵ کا خلاصہ
یہ حدیث ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی امانت داری کو بہت واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اہل نجران سے فرمایا کہ میں تمہارے پاس ایک ایسا امین بھیجوں گا جو واقعی امین ہو گا۔ یہ بات سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ شاید انہیں یہ ذمہ داری ملے۔ لیکن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ اس حدیث کا مرکزی لفظ امین ہے۔ یہاں امانت داری صرف تعریف نہیں، بلکہ عملی ذمہ داری کے لیے معیار ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جس شخص کو منتخب فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہم کام کے لیے دیانت دار، قابل اعتماد اور مضبوط کردار والا آدمی چنا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذمہ داری دینے میں امانت داری کو اہم معیار بنانا چاہیے۔
- صحابہ کرام نیکی کے کاموں میں آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے تھے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو حقیقی امین قرار دیا۔
- اعتماد کا مقام کردار اور عمل سے بنتا ہے۔
