صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۰ - ابو عبیدہ بن الجراح امت کے امین
ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ: اس امت کے امین
صحیح بخاری : ۴۳۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۸۰
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : جَاءَ الْعَاقِبُ ، وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدَانِ أَنْ يُلَاعِنَاهُ ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : لَا تَفْعَلْ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ ، وَلَا عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا ، قَالَا : إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا ، وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا وَلَا تَبْعَثْ مَعَنَا إِلَّا أَمِينًا ، فَقَالَ : " لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ " ، فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ " ، فَلَمَّا قَامَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .
حذیفہ روایت:
نجران کے دو سردار عاقب اور سید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لیے آئے تھے لیکن ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ اللہ کی قسم! اگر یہ نبی ہوئے اور پھر بھی ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم پنپ نہیں سکتے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسلیں رہ سکیں گی۔ پھر ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جو کچھ آپ مانگیں ہم جزیہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ آپ ہمارے ساتھ کوئی امین بھیج دیجئیے، جو بھی آدمی ہمارے ساتھ بھیجیں وہ امین ہونا ضروری ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو امانت دار ہو گا بلکہ پورا پورا امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے، آپ نے فرمایا کہ ابوعبیدہ بن الجراح! اٹھو۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس امت کے امین ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع امانت ہے۔ نجران کے دو سردار عاقب اور سید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مباہلہ کے ارادے سے آئے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر یہ واقعی نبی ہیں اور ہم نے مباہلہ کیا تو ہم اور ہماری نسلیں کامیاب نہیں رہیں گی۔ اس کے بعد انہوں نے جزیہ دینے پر آمادگی ظاہر کی اور درخواست کی کہ ہمارے ساتھ کوئی امین آدمی بھیج دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایسا آدمی بھیجوں گا جو امانت دار ہے، بلکہ پورا امانت دار ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم انتظار کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ یہ اس امت کے امین ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امانت ایک ایسی خوبی ہے جس پر غیر مسلم بھی اعتماد چاہتے تھے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی امانت کی گواہی دی۔
- بڑے دینی اور مالی معاملات کے لیے امین شخص کو چنا گیا۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نیکی کے کاموں میں آگے بڑھنے کی خواہش رکھتے تھے۔
