صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۱ - اہل نجران کے لیے امین شخص
اہل نجران اور امانت دار صحابی: ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ
صحیح بخاری : ۴۳۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۸۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ابْعَثْ لَنَا رَجُلًا أَمِينًا ، فَقَالَ : " لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ " ، فَاسْتَشْرَفَ لَهُ النَّاسُ ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ .
ابوحذیفہ روایت:
اہل نجران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کوئی امانت دار آدمی بھیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایسا آدمی بھیجوں گا جو ہر حیثیت سے امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم منتظر تھے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں اہل نجران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کوئی امانت دار آدمی بھیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایسا شخص بھیجوں گا جو ہر لحاظ سے امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اس بات کے منتظر تھے کہ یہ سعادت کس کو ملتی ہے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ حدیث مختصر ہے، مگر اس میں ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی امانت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتماد، اور امانت دار قیادت کی ضرورت صاف بیان ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنے معاملات کے لیے امین شخص مانگے تو اس کے لیے قابل اعتماد آدمی ہی مقرر کیا جانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امانت داری قیادت اور نمائندگی کے لیے بنیادی وصف ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ پر خاص اعتماد فرمایا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم خیر کے کاموں میں منتخب ہونے کی امید رکھتے تھے۔
- اہل نجران نے بھی امانت دار شخص کا مطالبہ کیا۔
