صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۲ - ہر امت کا امین اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ
ہر امت کا امین: ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی فضیلت
صحیح بخاری : ۴۳۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۸۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر امت میں امین (امانتدار) ہوتے ہیں اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۲ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر مگر بہت معنی خیز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر امت میں امین ہوتے ہیں، اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس روایت میں ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی خاص فضیلت بیان ہوئی ہے۔ امانت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پر اعتماد کیا جا سکے، وہ ذمہ داری کو صحیح طریقے سے نبھائے اور لوگوں کے حقوق میں خیانت نہ کرے۔ حدیث میں زیادہ تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے بات کو اسی حد میں رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اس امت کا امین فرمایا۔ یہ لقب خود بہت بڑا اعزاز ہے اور امانت داری کو مسلمانوں کے لیے قابل قدر صفت بناتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امانت داری ایک بڑی دینی خوبی ہے۔
- ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو اس امت کا امین فرمایا گیا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی کسی صحابی کی فضیلت کے لیے کافی ہے۔
- ذمہ داری کے کاموں میں قابل اعتماد شخص کی قدر ہونی چاہیے۔
