صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۳ - وعدہ پورا کرنا اور بخل سے بچنا

وعدہ پورا کرنے کی حدیث: جابر رضی اللہ عنہ اور بحرین کا مال

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۸۳

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ الله رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا " ، فَلَمْ يَقْدَمْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَىأَبِي بَكْرٍ أَمَرَ مُنَادِيًا ، فَنَادَى : مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي ، قَالَ جَابِرٌ : فَجِئْتُ أَبَا بَكْرٍ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا " ، قَالَ : فَأَعْطَانِي ، قَالَ جَابِرٌ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُعْطِنِي ، فَقُلْتُ لَهُ : قَدْ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي ، ثُمَّ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي ، ثُمَّ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي ، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي ، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي ، فَقَالَ : أَقُلْتَ تَبْخَلُ عَنِّي وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ قَالَهَا ثَلَاثًا ، مَا مَنَعْتُكَ مِنْ مَرَّةٍ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ ، وَعَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جِئْتُهُ ، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ : عُدَّهَا ، فَعَدَدْتُهَا ، فَوَجَدْتُهَا خَمْسَ مِائَةٍ ، فَقَالَ : خُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا جب میرے پاس بحرین سے روپیہ آئے گا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ بھر کر روپیہ دوں گا، لیکن بحرین سے جس وقت روپیہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی تھی۔ اس لیے وہ روپیہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہوں نے اعلان کروا دیا کہ اگر کسی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض یا کسی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو تو وہ میرے پاس آئے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان کے یہاں آ گیا اور انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین سے میرے پاس روپیہ آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ بھر کر دوں گا۔جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے ملاقات کی اور ان سے اس کے متعلق کہا لیکن انہوں نے اس مرتبہ مجھے نہیں دیا۔ میں پھر ان کے یہاں گیا اس مرتبہ بھی انہوں نے نہیں دیا۔ میں تیسری مرتبہ گیا، اس مرتبہ بھی انہوں نے نہیں دیا۔ اس لیے میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کے یہاں ایک مرتبہ آیا۔ آپ نے نہیں دیا، پھر آیا اور آپ نے نہیں دیا۔ پھر تیسری مرتبہ آیا ہوں اور آپ اس مرتبہ بھی نہیں دے رہے ہیں۔ اگر آپ کو مجھے دینا ہے تو دے دیجئیے ورنہ صاف کہہ دیجئیے کہ میرا دل دینے کو نہیں چاہتا، میں بخیل ہوں۔اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے کہا ہے کہ میرے معاملہ میں بخل کر لو، بھلا بخل سے بڑھ کر اور کیا عیب ہو سکتا ہے۔ تین مرتبہ انہوں نے یہ جملہ دہرایا اور کہا میں نے تمہیں جب بھی ٹالا تو میرا ارادہ یہی تھا کہ بہرحال تمہیں دینا ہے۔ اور اسی سند سے عمرو بن دینار سے روایت ہے، ان سے محمد بن علی باقر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں حاضر ہوا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر روپیہ دیا اور کہا کہ اسے گن لو۔ میں نے گنا تو پانچ سو تھا۔ فرمایا کہ دو مرتبہ اتنا ہی اور لے لو۔

صحیح بخاری حدیث ۴۳۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع وعدہ پورا کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تمہیں تین لپ بھر کر دوں گا۔ مال اس وقت آیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی تھی۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اعلان کرایا کہ جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض یا وعدہ ہو وہ آئے۔ جابر رضی اللہ عنہ آئے اور اپنا معاملہ بتایا۔ روایت میں آگے آتا ہے کہ کچھ مرتبہ انہیں انتظار کرنا پڑا، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے جب بھی تمہیں روکا، ارادہ یہی تھا کہ تمہیں دوں۔ پھر انہیں ایک لپ دیا، وہ پانچ سو نکلا، اور فرمایا کہ اس کے برابر دو مرتبہ اور لے لو۔ اس حدیث میں وعدے کی پاسداری، مالی حق اور بخل سے بچنے کا سبق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے کو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پورا کیا۔
  • قرض یا وعدے کے معاملے میں اعلان کر کے لوگوں کو بلایا گیا۔
  • بخل کو عیب کے طور پر ذکر کیا گیا۔
  • وعدہ پورا کرنے میں کبھی تاخیر ہو سکتی ہے، مگر نیت ادائیگی کی ہونی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں