صحیح بخاری حدیث ۳۷۴۴ - ابو عبیدہ بن جراح امت کے امین

ابو عبیدہ بن جراح حدیث: امت کے امین کی فضیلت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۴۴

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا ، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر امت میں امین ہوتے ہیں اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۳۷۴۴ کا خلاصہ

یہ حدیث امانت داری کی بڑی قدر بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے، اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ امانت صرف مال کی حفاظت کا نام نہیں، بلکہ انسان کے کردار، بات، ذمہ داری اور بھروسے سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے امت کا امین فرمایا، اس لیے ان کا ذکر امانت داری کی حدیث کے طور پر بہت تلاش کیا جاتا ہے۔ اس روایت میں لمبی تفصیل نہیں، مگر الفاظ بہت وزن رکھتے ہیں۔ امت کے امین کا لقب بتاتا ہے کہ سچا مسلمان ایسا ہو کہ لوگ اس پر اعتماد کر سکیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امانت داری مسلمان کے کردار کی بڑی خوبی ہے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے اعتماد کو خاص طور پر بیان فرمایا۔
  • کسی شخص کی اصل عزت اس کے بھروسے اور دیانت سے بڑھتی ہے۔
  • اچھے لوگوں کی فضیلت بیان کرنا جائز اور مفید ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں