صحیح بخاری حدیث ۳۷۸۱ - مواخات، تجارت اور ولیمہ

عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی خودداری اور ولیمہ کی سنت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۸۱

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّهُ قَالَ : " قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ وَكَانَ كَثِيرَ الْمَالِ ، فَقَالَ سَعْدٌ : قَدْ عَلِمَتْ الْأَنْصَارُ أَنِّي مِنْ أَكْثَرِهَا مَالًا سَأَقْسِمُ مَالِي بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَيْنِ , وَلِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَعْجَبَهُمَا إِلَيْكَ فَأُطَلِّقُهَا حَتَّى إِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ فَلَمْ يَرْجِعْ يَوْمَئِذٍ حَتَّى أَفْضَلَ شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ وَأَقِطٍ , فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْيَمْ " ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : مَا سُقْتَ فِيهَا ، قَالَ : وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ , أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .

انس بن مالک روایت:

جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ کرا دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ بہت دولت مند تھے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: انصار کو معلوم ہے کہ میں ان میں سب سے زیادہ مالدار ہوں اس لیے میں اپنا آدھا آدھا مال اپنے اور آپ کے درمیان بانٹ دینا چاہتا ہوں اور میرے گھر میں دو بیویاں ہیں جو آپ کو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوں گا اس کی عدت گزر جانے پر آپ اس سے نکاح کر لیں۔عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہارے اہل و مال میں برکت عطا فرمائے، (مجھ کو اپنا بازار دکھلا دو) پھر وہ بازار سے اس وقت تک واپس نہیں آئے جب تک کچھ گھی اور پنیر بطور نفع بچا نہیں لیا۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جسم پر زردی کا نشان تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ بولے کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا مہر کیا دیا ہے؟ بولے ایک گٹھلی کے برابر سونا یا (یہ کہا کہ) سونے کی ایک گٹھلی دی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا اب ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۳۷۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے بھائی چارے کا واقعہ تفصیل سے آیا ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی دولت اور گھر کے بارے میں بہت بڑی پیشکش کی۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تمہارے اہل و مال میں برکت دے، پھر بازار گئے اور تجارت شروع کی۔ جلد ہی کچھ نفع حاصل ہوا۔ کچھ دن بعد وہ نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے تو جسم پر زردی کا نشان تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ شادی کر لی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے مہر پوچھا، پھر فرمایا کہ ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی سے ہو۔ یہ حدیث محنت، نکاح، مہر اور ولیمہ کی رہنمائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح کے بعد ولیمہ کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت سے ثابت ہے۔
  • مہر کا ذکر نکاح کے معاملے میں اہم ہے۔
  • عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے محنت اور تجارت کو اختیار کیا۔
  • سعد رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی خودداری دونوں قابل قدر ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں