صحیح بخاری حدیث ۳۷۸۲ - انصار اور مہاجرین کی کھجوروں میں شراکت
انصار و مہاجرین کا تعاون: کھجوروں کی محنت اور پھل میں شراکت
صحیح بخاری : ۳۷۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۸۲
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو هَمَّامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَتْ الْأَنْصَارُ : اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ النَّخْلَ ، قَالَ : " لَا " ، قَالَ : " يَكْفُونَا الْمَئُونَةَ وَتشْرِكُونَا فِي التَّمْرِ " ، قَالُوا : سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا " .
ابوہریرہ روایت:
انصار نے کہا: یا رسول اللہ! کھجور کے باغات ہمارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں کروں گا اس پر انصار نے (مہاجرین سے) کہا پھر آپ ایسا کر لیں کہ کام ہماری طرف سے آپ انجام دیا کریں اور کھجوروں میں آپ ہمارے ساتھی ہو جائیں۔ مہاجرین نے کہا ہم نے آپ لوگوں کی یہ بات سنی اور ہم ایسا ہی کریں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں انصار کے ایثار اور مہاجرین کے ساتھ تعاون کا ایک عملی واقعہ ہے۔ انصار نے عرض کیا کہ کھجور کے باغات ہمارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم کر دیے جائیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔ پھر انصار نے مہاجرین سے کہا کہ آپ ہمارے باغات کا کام سنبھال لیں اور کھجوروں میں ہمارے ساتھی ہو جائیں۔ مہاجرین نے کہا کہ ہم نے بات سنی اور ہم ایسا کریں گے۔ اس روایت میں تعاون، محنت، شراکت اور باہمی رضامندی کا صاف سبق ہے۔ انصار نے مدد کا راستہ نکالا، مہاجرین نے کام قبول کیا، اور یوں بھائی چارہ عملی شکل میں سامنے آیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انصار نے مہاجرین کی مدد کے لیے عملی پیشکش کی۔
- شراکت میں محنت اور پھل کی تقسیم باہمی رضامندی سے ہو سکتی ہے۔
- مہاجرین نے محنت کے ذریعے تعاون قبول کیا۔
- دینی بھائی چارہ صرف الفاظ نہیں، عمل سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔
