صحیح بخاری حدیث ۳۷۸۷ - انصار کے تابعین کی دعا
انصار کے تابع لوگوں کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا
صحیح بخاری : ۳۷۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۸۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو , سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعٌ وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا " , فَدَعَا بِهِ , فَنَمَيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قَدْ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ " .
زید بن ارقم روایت:
انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر نبی کے تابعدار لوگ ہوتے ہیں اور ہم نے آپ کی تابعداری کی ہے۔ آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ اللہ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرمائی۔ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی یہ حدیث بیان کی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع انصار کی نسبت اور خیر خواہی ہے۔ انصار نے عرض کیا کہ ہر نبی کے تابعدار لوگ ہوتے ہیں، اور ہم نے آپ کی تابعداری کی ہے۔ پھر انہوں نے درخواست کی کہ اللہ سے دعا فرمائیں کہ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ انصار صرف اپنی فضیلت پر خوش نہیں تھے، بلکہ اپنے تابع اور وابستہ لوگوں کے لیے بھی خیر چاہتے تھے۔ انصار کی فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ نسبت، وفاداری اور دینی تعلق کو اہم سمجھتے تھے۔ اس حدیث میں دعا کی برکت کا ذکر بھی ہے، مگر بات اسی حد تک رکھی گئی ہے جو متن میں آئی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست پر دعا فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انصار نے اپنے تابع لوگوں کے لیے خیر چاہی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے انصار کی درخواست پر دعا فرمائی۔
- دینی نسبت اور وفاداری کی قدر کی گئی۔
- نیک لوگ اپنے ساتھ جڑے لوگوں کو بھی بھلائی میں شامل دیکھنا چاہتے ہیں۔
