صحیح بخاری حدیث ۳۹۴۰ - خرید و فروخت میں ادھار کا حکم

ادھار خرید و فروخت کی حدیث: بیع و ربا کا صاف فرق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۹۴۰

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ ، قَالَ : بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ نَسِيئَةً ، فَقُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ أَيَصْلُحُ هَذَا ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَهُ أَحَدٌ , فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، فَقَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ ، فَقَالَ : " مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ , وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ " , وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً , فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، فَقَالَ : مِثْلَهُ ، وَقَالَ سُفْيَانُ : مَرَّةً ، فَقَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ ، وَقَالَ : " نَسِيئَةً إِلَى الْمَوْسِمِ أَوِ الْحَجِّ " .

عبدالرحمٰن بن مطعم روایت:

میرے ایک ساجھی نے بازار میں چند درہم ادھار فروخت کیے، میں نے اس سے کہا: سبحان اللہ! کیا یہ جائز ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کی قسم! میں نے بازار میں اسے بیچا تو کسی نے بھی قابل اعتراض نہیں سمجھا۔ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (ہجرت کر کے) تشریف لائے تو اس طرح خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید و فروخت کی اس صورت میں اگر معاملہ دست بدست (نقد) ہو تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر ادھار پر معاملہ کیا تو پھر یہ صورت جائز نہیں اور زید بن ارقم سے بھی مل کر اس کے متعلق پوچھ لو کیونکہ وہ ہم میں بڑے سوداگر تھے۔ میں نے زید بن ارقم سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ سفیان نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے یہاں مدینہ تشریف لائے تو ہم (اس طرح کی) خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور بیان کیا کہ ادھار موسم تک کے لیے یا (یوں بیان کیا کہ) حج تک کے لیے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۹۴۰ کا خلاصہ

یہ حدیث خرید و فروخت کے ایک خاص معاملے کو آسان الفاظ میں سمجھاتی ہے۔ عبدالرحمٰن بن مطعم کے شریک نے بازار میں چند درہم ادھار فروخت کیے۔ انہیں تعجب ہوا کہ کیا یہ معاملہ درست ہے؟ شریک نے کہا کہ بازار میں کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ مگر عبدالرحمٰن بن مطعم نے صرف بازار کے رواج پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی اس طرح کی خرید و فروخت ہوتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر معاملہ دست بدست ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن اگر ادھار ہو تو یہ درست نہیں۔ اس لیے اس حدیث کا اصل موضوع درہم کی خرید و فروخت، نقد لین دین، ادھار کا حکم، اور سود کی حدیث سے متعلق احتیاط ہے۔ اس میں یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ دینی معاملے میں بات پکی کرنے کے لیے اہل علم اور جاننے والوں سے پوچھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • درہم کی خرید و فروخت میں دست بدست معاملہ ہو تو حدیث کے مطابق کوئی مضائقہ نہیں۔
  • اسی معاملے کو ادھار پر کرنا درست نہیں بتایا گیا۔
  • بازار کا عام رواج کافی دلیل نہیں؛ شرعی رہنمائی معلوم کرنا ضروری ہے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معاملہ واضح کرنے کے لیے ایک دوسرے سے پوچھتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں