صحیح بخاری حدیث ۴۰۴۷ - ہجرت، اخلاص اور مصعب بن عمیر
ہجرت کی حدیث: اللہ کی رضا، مصعب بن عمیر اور سادہ کفن
صحیح بخاری : ۴۰۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۴۷
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ , فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ وَمِنَّا مَنْ مَضَى أَوْ ذَهَبَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا , كَانَ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ لَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ , وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلَاهُ خَرَجَ رَأْسُهُ , فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلِهِ الْإِذْخِرَ " , أَوْ قَالَ : " أَلْقُوا عَلَى رِجْلِهِ مِنَ الْإِذْخِرِ " , وَمِنَّا مَنْ قَدْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا .
خباب بن ارت روایت:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی۔ اس کا ثواب اللہ کے ذمے تھا۔ پھر ہم میں سے بعض لوگ تو وہ تھے جو گزر گئے اور کوئی اجر انہوں نے اس دنیا میں نہیں دیکھا، انہیں میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ احد کی لڑائی میں انہوں نے شہادت پائی تھی۔ ایک دھاری دار چادر کے سوا اور کوئی چیز ان کے پاس نہیں تھی (اور وہی ان کا کفن بنی) جب ہم اس سے ان کا سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں چھپاتے تو سر کھل جاتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سر چادر سے چھپا دو اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے تھے کہ «ألقوا على رجله من الإذخر» بجائے «اجعلوا على رجله الإذخر» کے اور ہم بعض وہ تھے جنہیں ان کے اس عمل کا بدلہ (اسی دنیا میں) مل رہا ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۴۷ کا خلاصہ
خباب بن الارت رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بتاتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور مقصد صرف اللہ کی رضا تھا۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ کچھ لوگ دنیا میں اپنا بدلہ دیکھے بغیر چلے گئے، ان میں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ احد میں شہید ہوئے تو ایک دھاری دار چادر کے سوا کچھ نہ چھوڑا۔ جب سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے، اور پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ سر چادر سے ڈھانپ دو اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔ یہ ہجرت کی حدیث، اخلاص کی حدیث، مصعب بن عمیر کا کفن اور دنیا وآخرت کے بدلے جیسے موضوعات پر مضبوط مگر سادہ سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہجرت اور دین کا کام اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔
- بعض نیک لوگ دنیا کی آسائش دیکھے بغیر اللہ کے پاس چلے گئے۔
- مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی زندگی سادگی اور قربانی کی مثال ہے۔
- دنیا کی کشادگی کو دیکھ کر آخرت کی فکر ختم نہیں ہونی چاہیے۔
