صحیح بخاری حدیث ۴۲۰۹ - حضرت علیؓ اور فتح خیبر
حضرت علی رضی اللہ عنہ، علمِ خیبر اور فتح کی بشارت
صحیح بخاری : ۴۲۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۰۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ ، وَكَانَ رَمِدًا ، فَقَالَ : أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَحِقَ بِهِ ، فَلَمَّا بِتْنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي فُتِحَتْ قَالَ : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا ، أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ يُفْتَحُ عَلَيْهِ " ، فَنَحْنُ نَرْجُوهَا ، فَقِيلَ : هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ , فَفُتِحَ عَلَيْهِ .
سلمہ روایت:
علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ جا سکے تھے کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جا چکے) تو انہوں نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ سے پیچھے رہوں (ایسا نہیں ہو سکتا)؟ چنانچہ وہ بھی آ گئے۔جس دن خیبر فتح ہونا تھا ‘ جب اس کی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں (اسلامی) عَلم اس شخص کو دوں گا یا فرمایا کہ عَلم وہ شخص لے گا جسے اللہ اور اس کا رسول عزیز رکھتے ہیں اور جس کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گی۔ ہم سب ہی اس سعادت کے امیدوار تھے لیکن کہا گیا کہ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کو جھنڈا دیا اور انہیں کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور فتح خیبر ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آنکھ کی تکلیف کی وجہ سے پہلے ساتھ نہ جا سکے، مگر انہوں نے پیچھے رہنا پسند نہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ جب خیبر کی فتح والی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل علم ایسے شخص کو دیا جائے گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں، اور جس کے ہاتھ پر فتح ہو گی۔ صحابہ سب اس سعادت کی امید رکھتے تھے، مگر علم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا اور ان کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوا۔ اس روایت میں محبت، خدمت، ہمت اور اللہ کی طرف سے فتح کا ذکر ہے۔ اس لیے اسے حضرت علی کی فضیلت اور غزوہ خیبر کی اہم حدیث کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ رہنے کے بہت خواہش مند تھے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے علم ایسے شخص کو دینے کی خبر دی جس سے اللہ اور رسول محبت کرتے ہیں۔
- فتح کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر واقع ہونے کے طور پر بیان کیا گیا۔
