صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۰ - مغفرت اور رفیق کی دعا
اللهم اغفر لي وارحمني: نبی صلى الله عليه وسلم کی آخری دعا
صحیح بخاری : ۴۴۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۴۰
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَيَّ ظَهْرَهُ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ " .
عائشہ روایت:
´ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ` آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، وفات سے کچھ پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پشت سے ان کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ آپ نے کان لگا کر سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر رہے ہیں «اللهم اغفر لي وارحمني، وألحقني بالرفيق» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم کر اور میرے رفیقوں سے مجھے ملا۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۴۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دعا اور آخری وقت کی عاجزی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وفات سے کچھ پہلے نبی کریم صلى الله عليه وسلم ان سے پشت کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ انہوں نے کان لگا کر سنا کہ آپ صلى الله عليه وسلم دعا فرما رہے تھے: اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما، اور مجھے رفیق سے ملا دے۔ یہ الفاظ بہت مختصر ہیں، مگر بندگی، رحمت کی طلب اور اللہ کی طرف واپسی کا صاف پیغام دیتے ہیں۔ اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری وقت کی دعا محفوظ ہے، جس میں مغفرت، رحمت اور رفیق اعلیٰ سے ملنے کی تمنا جمع ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے آخری وقت میں مغفرت اور رحمت کی دعا فرمائی۔
- مشکل ترین وقت میں بھی دعا بندے کا سہارا ہے۔
- رفیق سے ملنے کی دعا آخرت کی طرف رغبت کو ظاہر کرتی ہے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلى الله عليه وسلم کے آخری الفاظ کو امانت سے نقل کیا۔
