صحیح بخاری حدیث ۴۶۱۷ - شراب حرام ہوئی تو فوراً بہا دی گئی
شراب حرام ہوئی تو صحابہ نے فوراً عمل کیا
صحیح بخاری : ۴۶۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۱۷
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " مَا كَانَ لَنَا خَمْرٌ غَيْرُ فَضِيخِكُمْ ، هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ ، فَإِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ ، وَفُلَانًا ، وَفُلَانًا ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : وَهَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ ؟ فَقَالُوا : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، قَالُوا : أَهْرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ يَا أَنَسُ ، قَالَ : فَمَا سَأَلُوا عَنْهَا وَلَا رَاجَعُوهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ " .
انس بن مالک روایت:
ہم لوگ تمہاری «فضيخ» (کھجور سے بنائی ہوئی شراب) کے سوا اور کوئی شراب استعمال نہیں کرتے تھے، یہی جس کا نام تم نے «فضيخ» رکھ رکھا ہے۔ میں کھڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو پلا رہا تھا اور فلاں اور فلاں کو، کہ ایک صاحب آئے اور کہا: تمہیں کچھ خبر بھی ہے؟ لوگوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شراب حرام قرار دی جا چکی ہے۔ فوراً ہی ان لوگوں نے کہا: انس رضی اللہ عنہ اب ان شراب کے مٹکوں کو بہا دو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ان کی اطلاع کے بعد ان لوگوں نے اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ مانگا اور نہ پھر اس کا استعمال کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۱۷ کا خلاصہ
یہ حدیث صحابہ کرام کی فوری اطاعت کا بہترین بیان ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے لوگوں کو فضیخ پلا رہے تھے۔ ایک شخص آیا اور بتایا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ لوگوں نے فوراً انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ان مٹکوں کو بہا دو۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق اس خبر کے بعد انہوں نے نہ اس کے بارے میں مزید پوچھا، نہ اسے دوبارہ استعمال کیا۔ اس روایت میں شراب کی حرمت، صحابہ کی اطاعت، اور حکم ملتے ہی عمل کرنے کا مضمون ہے۔ یہ بات خاص ہے کہ انہوں نے تاخیر یا بحث کے بجائے فوراً حکم مانا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام حکم سنتے ہی فوراً عمل کرتے تھے۔
- شراب کی حرمت کی خبر ملنے کے بعد مٹکے بہا دیے گئے۔
- دینی حکم میں بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
- روایت میں فضیخ نامی مشروب کا ذکر آیا ہے۔
