صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۷ - بخل اور سستی سے پناہ

بخل اور سستی سے پناہ کی مسنون دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۰۷

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرُ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو : " أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْكَسَلِ ، وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے «أعوذ بك من البخل والكسل، وأرذل العمر، وعذاب القبر، وفتنة الدجال، وفتنة المحيا والممات ‏"‏‏.‏» کہ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے، سستی سے، ارذل عمر سے (نکمی اور خراب عمر 80 یا 90 سال کے بعد) عذاب قبر سے، دجال کے فتنے سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ایک جامع دعا بیان ہوئی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم اللہ سے بخل، سستی، ارذل عمر، عذاب قبر، دجال کے فتنے، اور زندگی و موت کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ بندہ اپنے اندر کی کمزوریوں اور باہر کے فتنوں دونوں سے اللہ کی مدد مانگے۔ بخل انسان کو خیر سے روک سکتا ہے، سستی نیک کاموں میں رکاوٹ بن سکتی ہے، اور فتنے انسان کے ایمان و عمل کو آزماتے ہیں۔ اس حدیث سے مسنون دعاؤں کی اہمیت بھی معلوم ہوتی ہے۔ دعا صرف مشکل وقت کے لیے نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں اللہ سے حفاظت مانگنے کا خوب صورت طریقہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بخل اور سستی جیسی عادتوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
  • عذاب قبر، دجال کے فتنے، اور زندگی و موت کے فتنے سے حفاظت کی دعا مسنون ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی دعائیں مختصر، جامع اور بندے کی اصل ضرورتوں سے جڑی ہوتی ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں