صحیح بخاری حدیث ۶۳۶۷ - عاجزی اور سستی سے پناہ
عاجزی اور سستی سے پناہ کی جامع دعا
صحیح بخاری : ۶۳۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۶۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ ، وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ ، وَالْبُخْلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من العجز والكسل، والجبن والهرم، وأعوذ بك من عذاب القبر، وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے اور بہت زیادہ بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمائشوں سے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جامع دعا بیان ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے عاجزی، سستی، بزدلی، بخل، بہت زیادہ بڑھاپے، عذاب قبر، اور زندگی و موت کی آزمائشوں سے پناہ مانگتے تھے۔ یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان صرف ظاہری تکلیفوں سے ہی نہیں بلکہ اخلاقی کمزوریوں اور اندرونی رکاوٹوں سے بھی اللہ کی پناہ مانگتا ہے۔ عاجزی اور سستی انسان کو نیک کاموں سے روک سکتی ہے، بزدلی ہمت کم کر دیتی ہے، بخل خیر کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے، اور زندگی و موت کی آزمائشیں انسان کے ایمان اور عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس لیے یہ دعا عام زندگی میں بار بار پڑھنے کے قابل ہے۔ اس میں قبر کے عذاب سے پناہ بھی شامل ہے، جو آخرت کی فکر کو زندہ رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سستی، بزدلی اور بخل جیسی کمزوریوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
- زندگی اور موت کی آزمائشوں سے بچنے کے لیے دعا کرنا مسنون عمل ہے۔
- عذاب قبر سے پناہ مانگنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں شامل ہے۔
- مسلمان اپنی عملی اور اخلاقی کمزوریوں کے علاج کے لیے اللہ سے مدد مانگتا ہے۔
