صحیح بخاری حدیث ۶۳۶۸ - فتنوں اور گناہوں سے پناہ
فتنوں، عذاب قبر اور گناہوں سے پاکی کی دعا
صحیح بخاری : ۶۳۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۶۸
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَالْمَأْثَمِ ، وَالْمَغْرَمِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ النَّارِ ، وَعَذَابِ النَّارِ ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ عَنِّي خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا ، كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم، والمأثم والمغرم، ومن فتنة القبر وعذاب القبر، ومن فتنة النار وعذاب النار، ومن شر فتنة الغنى، وأعوذ بك من فتنة الفقر، وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، اللهم اغسل عني خطاياى بماء الثلج والبرد، ونق قلبي من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، بہت زیادہ بڑھاپے سے، گناہ سے، قرض سے اور قبر کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے اور دوزخ کی آزمائش سے اور دوزخ کے عذاب سے اور مالداری کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں محتاجی کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کی آزمائش سے۔ اے اللہ! مجھ سے میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح پاک و صاف کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک صاف کر دیا اور مجھ میں اور میرے گناہوں میں اتنی دوری کر دے جتنی مشرق اور مغرب میں دوری ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بہت جامع دعا بیان ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سستی، بہت زیادہ بڑھاپے، گناہ، قرض، قبر کی آزمائش، عذاب قبر، آگ کی آزمائش، آگ کے عذاب، مالداری کی آزمائش، محتاجی کی آزمائش، اور مسیح دجال کی آزمائش سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے اپنے گناہوں کو دھونے، دل کو خطاؤں سے صاف کرنے، اور گناہوں سے دوری کی دعا کرتے تھے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ انسان کو صرف دنیاوی مشکل سے نہیں بلکہ دینی نقصان، گناہ، قرض، فتنہ قبر، عذاب نار، اور دل کی پاکی کے لیے بھی اللہ سے مانگنا چاہیے۔ اس دعا میں بندہ اپنی کمزوری مانتا ہے اور اللہ سے حفاظت، صفائی اور درست راستہ مانگتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گناہوں سے پاکی اور دل کی صفائی کے لیے اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔
- قبر، آگ، مالداری، محتاجی اور دجال کے فتنوں سے پناہ مانگنا مسنون ہے۔
- قرض اور گناہ دونوں ایسی چیزیں ہیں جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے۔
- دعا میں بندہ اللہ کے سامنے اپنی کمزوری اور حاجت ظاہر کرتا ہے۔
