صحیح بخاری حدیث ۶۳۶۹ - غم اور قرض سے پناہ

غم، پریشانی اور قرض سے پناہ کی دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۶۹

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سليمان ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ ، وَالْحَزَنِ ، وَالْعَجْزِ ، وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ ، وَالْبُخْلِ ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، والعجز والكسل، والجبن والبخل، وضلع الدين، وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل، قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبہ سے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۳۶۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا بیان ہوئی ہے جس میں آپ غم، حزن، عاجزی، سستی، بزدلی، بخل، قرض کے بوجھ، اور لوگوں کے غلبے سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ یہ دعا عام انسان کی روزمرہ زندگی سے بہت قریب ہے۔ کبھی انسان فکر اور غم میں گھرا ہوتا ہے، کبھی سستی یا بے بسی اسے اچھے کام سے روک دیتی ہے، کبھی قرض کا دباؤ دل کو پریشان کرتا ہے، اور کبھی لوگوں کا غلبہ انسان پر بوجھ بن جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین انسان کی اندرونی پریشانی، مالی دباؤ، اخلاقی کمزوری، اور معاشرتی مشکل سب کو سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔ یہ غم اور قرض سے نجات کی دعا کے طور پر بہت معروف ہے، مگر اسے حدیث کے الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غم اور پریشانی میں اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
  • قرض کا بوجھ انسان کے لیے سخت آزمائش بن سکتا ہے۔
  • سستی، بزدلی اور بخل سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے۔
  • لوگوں کے غلبے اور دباؤ سے حفاظت بھی اللہ ہی سے مانگی جاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں