صحیح بخاری حدیث ۶۳۶۶ - عذاب قبر سے پناہ کی دعا

عذاب قبر سے پناہ کی دعا اور نماز میں اس کا اہتمام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۶۶

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَتَا لِي : إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ ، فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا ، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَجُوزَيْنِ وَذَكَرْتُ لَهُ ، فَقَالَ : " صَدَقَتَا إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا " ، فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلَاةٍ ، إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .

عائشہ روایت:

مدینہ کے یہودیوں کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبر میں عذاب ہو گا۔ لیکن میں نے انہیں جھٹلایا اور ان کی (بات کی) تصدیق نہیں کر سکی۔ پھر وہ دونوں عورتیں چلی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دو بوڑھی عورتیں تھیں، پھر میں آپ سے واقعہ کا ذکر کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے صحیح کہا، قبر والوں کو عذاب ہو گا اور ان کے عذاب کو تمام چوپائے سنیں گے۔ پھر میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنے لگے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۶۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع عذاب قبر سے پناہ مانگنا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس مدینہ کی دو بوڑھی یہودی عورتیں آئیں اور انہوں نے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پہلے ان کی بات کو قبول نہ کیا، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے یہ بات آپ کے سامنے رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے صحیح کہا، قبر والوں کو عذاب ہوتا ہے اور اس عذاب کو چوپائے سنتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب قبر کی دعا، قبر کے عذاب سے پناہ، اور نماز کے اندر اللہ سے حفاظت مانگنا بہت اہم عمل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عذاب قبر ایک حقیقت ہے جس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔
  • دین کی بات میں حتمی تصدیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے ہوتی ہے۔
  • انسان کو آخرت کے مراحل کے بارے میں غافل نہیں رہنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں