صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۶ - لعان کا شرعی فیصلہ اور اولاد کا نسب

لعان کی حدیث: میاں بیوی کے جھگڑے میں شریعت کا صاف فیصلہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۴۶

حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمَا مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ " ، قَالَ : فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَارَقَهَا ، فَكَانَتْ سُنَّةً أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، وَكَانَتْ حَامِلًا ، فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا ، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا ، وَتَرِثَ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا .

سہل بن سعد روایت:

ایک صاحب (یعنی عویمر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسے شخص کے متعلق آپ کا کیا ارشاد ہے جس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو دیکھا ہو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ لیکن پھر آپ قصاص میں قاتل کو قتل کر دیں گے۔ پھر اسے کیا کرنا چاہئے؟ انہیں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دو آیات نازل کیں جن میں لعان کا ذکر ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ کیا جا چکا ہے۔راوی نے بیان کیا کہ پھر دونوں میاں بیوی نے لعان کیا اور میں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔ پھر آپ نے دونوں میں جدائی کرا دی اور دو لعان کرنے والوں میں اس کے بعد یہی طریقہ قائم ہو گیا کہ ان میں جدائی کرا دی جائے۔ ان کی بیوی حاملہ تھیں، لیکن انہوں نے اس کا بھی انکار کر دیا۔ چنانچہ جب بچہ پیدا ہوا تو اسے ماں ہی کے نام سے پکارا جانے لگا۔ میراث کا یہ طریقہ ہوا کہ بیٹا ماں کا وارث ہوتا ہے اور ماں اللہ کے مقرر کئے ہوئے حصہ کے مطابق بیٹے کی وارث ہوتی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع لعان ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو کیا کرے؟ حدیث میں صاف بتایا گیا کہ اس معاملے میں ذاتی غصے سے فیصلہ نہیں کیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیات کے مطابق لعان کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ میاں بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔ چونکہ عورت حاملہ تھی اور شوہر نے حمل کا انکار کیا، اس لیے بچہ ماں کی طرف منسوب ہوا۔ میراث کے بارے میں بھی یہی طریقہ بیان ہوا کہ بیٹا ماں کا وارث ہو گا اور ماں اپنے مقرر حصے کے مطابق بیٹے کی وارث ہو گی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شوہر اور بیوی کے سنگین معاملے میں فیصلہ غصے یا جذبات سے نہیں بلکہ شرعی طریقے سے کیا جاتا ہے۔
  • لعان کے بعد میاں بیوی میں جدائی کر دی جاتی ہے، جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے۔
  • جس بچے کا نسب باپ سے ثابت نہ ہو، اس حدیث کے مطابق اسے ماں کی طرف منسوب کیا گیا۔
  • میراث میں ماں اور بچے کا تعلق اسی نسبت کے مطابق بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں