صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۸ - لعان کے بعد بچہ ماں کا ہو گا
لعان کے بعد بچے کا حکم: ماں کی طرف نسبت
صحیح بخاری : ۴۷۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۴۸
حَدَّثَنَا مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنَّ رَجُلًا رَمَى امْرَأَتَهُ ، فَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَلَاعَنَا كَمَا قَالَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْمَرْأَةِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ " .
ابن عمر روایت:
ایک صاحب نے اپنی بیوی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک غیر مرد کے ساتھ تہمت لگائی اور کہا کہ عورت کا حمل میرا نہیں ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے دونوں میاں بیوی نے اللہ کے فرمان کے مطابق لعان کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ عورت ہی کا ہو گا اور لعان کرنے والے دونوں میاں بیوی میں جدائی کروا دی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں لعان، حمل کے انکار اور بچے کے نسب کا حکم مختصر مگر صاف انداز میں آیا ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی پر تہمت لگائی اور بچے سے بھی انکار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو اللہ کے حکم کے مطابق لعان کا حکم دیا۔ جب لعان مکمل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ وہ عورت ہی کا ہو گا۔ پھر دونوں لعان کرنے والوں میں جدائی کرا دی گئی۔ اس روایت میں اصل بات یہ ہے کہ ایسے نازک معاملے میں فیصلہ ذاتی دعوے سے نہیں، بلکہ شریعت کے بتائے ہوئے طریقے سے ہوتا ہے۔ اس لیے لعان کا مسئلہ اردو میں سمجھنے کے لیے یہ حدیث نہایت واضح بنیاد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لعان کا طریقہ اللہ کے حکم کے مطابق ادا کیا گیا۔
- بچے کے بارے میں فیصلہ دعوے کے بجائے شرعی حکم کے تحت ہوا۔
- لعان کے بعد میاں بیوی میں جدائی کی گئی۔
- نسب اور خاندان کے معاملے میں احتیاط اور شریعت کی پابندی ضروری ہے۔
