صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۹ - واقعہ افک میں بڑا کردار کس کا تھا
واقعہ افک کی حدیث: بڑا حصہ لینے والے شخص کی پہچان
صحیح بخاری : ۴۷۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۴۹
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ سورة النور آية 11 ، قَالَتْ : " عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ " .
عائشہ روایت:
«والذي تولى كبره» یعنی اور جس نے ان میں سے سب سے بڑھ کر حصہ لیا تھا اور مراد عبداللہ بن ابی ابن سلول (منافق) ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۷۴۹ کا خلاصہ
اس مختصر حدیث کا موضوع واقعہ افک ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت کے الفاظ والذي تولى كبره کے بارے میں بتایا کہ اس سے مراد عبداللہ بن ابی ابن سلول ہے۔ حدیث بہت چھوٹی ہے، مگر اس میں ایک بڑی بات واضح ہوتی ہے کہ ہر افواہ کے پیچھے کچھ لوگ زیادہ کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں نام کے ساتھ بتایا گیا کہ تہمت کے معاملے میں سب سے بڑا حصہ اسی شخص کا تھا۔ اس حدیث سے واقعہ افک کی تفصیل نہیں آتی، بلکہ صرف آیت کے ایک حصے کی وضاحت آتی ہے۔ اس لیے اس کی شرح میں بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ یہ روایت افک کی آیت میں مذکور بڑے ذمہ دار شخص کی تعیین بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- واقعہ افک میں بعض لوگوں کا کردار دوسروں سے زیادہ سنگین تھا۔
- قرآن کی آیت کے ایک لفظ کی وضاحت صحابی کے بیان سے سمجھ آتی ہے۔
- افواہ پھیلانے والے ہر شخص کا کردار ایک جیسا نہیں ہوتا۔
- تہمت کے معاملے میں زبان اور کردار دونوں کی ذمہ داری ہے۔
