صحیح بخاری حدیث ۴۷۵۱ - تہمت کی خبر اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا صدمہ

تہمت کا صدمہ: عائشہ رضی اللہ عنہا پر افک کی خبر کا اثر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۵۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أُمِّ رُومَانَ أُمِّ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " لَمَّا رُمِيَتْ عَائِشَةُ خَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا " .

ام رومان روایت:

جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۵۱ کا خلاصہ

یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس میں واقعہ افک کے انسانی درد کا ذکر ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگنے کی خبر انہیں پہنچی تو وہ بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ اس حدیث میں لمبی تفصیل نہیں، صرف ایک لمحے کا ذکر ہے، لیکن یہی لمحہ بتاتا ہے کہ کسی پاک دامن انسان پر الزام لگنا کتنا تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ اردو میں تہمت کی حدیث تلاش کرنے والے کے لیے یہ روایت یاد دلاتی ہے کہ زبان سے نکلی ہوئی بات صرف الفاظ نہیں رہتی، وہ کسی کے دل، گھر اور عزت کو زخمی کر سکتی ہے۔ اس لیے اس حدیث کی شرح میں اصل بات تہمت کے صدمے اور بے قصور پر اس کے اثر تک محدود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تہمت بے قصور انسان کے لیے شدید صدمے کا سبب بن سکتی ہے۔
  • زبان سے پھیلائی گئی بات دوسرے کے دل پر بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔
  • واقعہ افک میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی تکلیف صاف ظاہر ہوتی ہے۔
  • کسی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کے اثر کو سوچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں