صحیح بخاری حدیث ۴۷۵۶ - حسان بن ثابت، نابینائی اور دفاع رسول

حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا واقعہ: غلطی بھی یاد، خدمت بھی یاد

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۷۵۶

حدثنا محمد بن بشار ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : " دَخَلَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَى عَائِشَةَ ، فَشَبَّبَ ، وَقَالَ : حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ ، قَالَتْ : لَسْتَ كَذَاكَ ، قُلْتُ : تَدَعِينَ مِثْلَ هَذَا يَدْخُلُ عَلَيْكِ ، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ : وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ سورة النور آية 11 ، فَقَالَتْ : وَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى ، وَقَالَتْ : وَقَدْ كَانَ يَرُدُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

مسروق روایت:

حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور یہ شعر پڑھا۔ عفیفہ اور بڑی عقلمند ہیں، ان کے متعلق کسی کو شبہ بھی نہیں گزر سکتا۔ آپ غافل اور پاک دامن عورتوں کا گوشت کھانے سے کامل پرہیز کرتی ہیں۔“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ لیکن اے حسان! تو ایسا نہیں ہے۔بعد میں، میں نے عرض کیا آپ ایسے شخص کو اپنے پاس آنے دیتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ تو یہ آیت بھی نازل کر چکا ہے «والذي تولى كبره منهم‏» کہ ”اور جس نے ان میں سے سب سے بڑا حصہ لیا۔“ الخ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نابینا ہو جانے سے بڑھ کر اور کیا عذاب ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ حسان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار کی ہجو کا جواب دیا کرتے تھے (کیا یہ شرف ان کے لیے کم ہے)۔

صحیح بخاری حدیث ۴۷۵۶ کا خلاصہ

اس روایت میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہوں نے شعر پڑھا جس میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی کا ذکر تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ اے حسان، تم ایسے نہیں رہے۔ مسروق نے سوال کیا کہ آپ ایسے شخص کو آنے دیتی ہیں، جبکہ آیت میں واقعہ افک کے بڑے حصے کا ذکر ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نابینائی سے بڑھ کر کون سا عذاب ہو گا، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار کی ہجو کا جواب دیا کرتے تھے۔ یہ حدیث بہت متوازن ہے۔ اس میں غلطی کو چھپایا نہیں گیا، مگر سابق خدمت کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے غلطی کی طرف اشارہ بھی کیا اور سابق خدمت بھی یاد رکھی۔
  • کسی شخص کے معاملے میں عدل کا مطلب ہے کہ ایک پہلو دیکھ کر سارا فیصلہ نہ کیا جائے۔
  • حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دیا کرتے تھے۔
  • واقعہ افک میں شامل ہونا سنگین تھا، اس لیے عائشہ رضی اللہ عنہا نے صاف جواب دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں