صحیح بخاری حدیث ۴۸۰۶ - سورہ ص میں سجدہ تلاوت کی دلیل
سورہ ص کا سجدہ تلاوت: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی دلیل
صحیح بخاری : ۴۸۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۰۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْعَوَّامِ ، قَالَ : " سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ السَّجْدَةِ فِي ص ؟ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 90 ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْجُدُ فِيهَا .
عوام بن حوشب روایت:
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عوام بن حوشب نے کہ میں نے مجاہد سے سورۃ ص میں سجدہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ` یہ سوال ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی کیا گیا تھا تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «أولئك الذين هدى الله فبهداهم اقتده» ”یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی تھی پس آپ بھی انہی کی ہدایت کی اتباع کریں۔“ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اس میں سجدہ کیا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سجدہ تلاوت ہے، خاص طور پر سورہ ص کے سجدہ کے بارے میں۔ عوام بن حوشب رحمہ اللہ نے مجاہد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ سورہ ص میں سجدہ کیوں کیا جاتا ہے؟ مجاہد رحمہ اللہ نے جواب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سورہ انعام کی آیت پڑھی کہ جن لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی، آپ بھی ان کی ہدایت کی پیروی کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ داؤد علیہ السلام کے سجدہ کا ذکر صرف قصہ نہیں، بلکہ اس میں پیروی کا پہلو بھی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما خود اس مقام پر سجدہ کیا کرتے تھے۔ اس لیے سورہ ص سجدہ کی حدیث، سجدہ تلاوت کی دلیل اور انبیاء کی ہدایت کی پیروی کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورہ ص کے سجدہ کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عمل اہم دلیل ہے۔
- قرآن میں انبیاء کی ہدایت کا ذکر پیروی کے لیے بھی ہوتا ہے۔
- دینی مسئلہ سمجھنے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فہم کو اہمیت دینی چاہیے۔
