صحیح بخاری حدیث ۴۸۷۵ - بدر کے دن نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا
غزوہ بدر کی دعا: اللہ کے وعدہ نصرت پر نبی صلى الله عليه وسلم کا بھروسہ
صحیح بخاری : ۴۸۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۷۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ وُهَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ ، اللَّهُمَّ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ " ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ : " سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ سورة القمر آية 45 " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپ بدر کی لڑائی کے دن ایک خیمے میں تھے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ نصرت یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ! تیری مرضی ہے اگر تو چاہے (ان تھوڑے سے مسلمانوں کو بھی ہلاک کر دے) پھر آج کے بعد تیری عبادت باقی نہیں رہے گی۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا: بس یا رسول اللہ! آپ نے اپنے رب سے بہت ہی الحاح و زاری سے دعا کر لی ہے۔اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زرہ پہنے ہوئے چل پھر رہے تھے اور آپ خیمہ سے نکلے تو زبان مبارک پر یہ آیت تھی «سيهزم الجمع ويولون الدبر» ”سو عنقریب (کافروں کی) جماعت شکست کھائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۸۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں غزوہ بدر کے دن نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی دعا کا ذکر ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم خیمے میں تھے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کر رہے تھے کہ اے اللہ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ یاد دلاتا ہوں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت باقی نہ رہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلى الله عليه وسلم کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا کہ آپ اپنے رب سے بہت دعا کر چکے ہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم زرہ پہنے ہوئے باہر آئے اور «سيهزم الجمع ويولون الدبر» پڑھ رہے تھے۔ اس حدیث میں غزوہ بدر کی دعا، اللہ کا وعدہ نصرت، اور نبی صلى الله عليه وسلم کا یقین نمایاں ہے۔ متن میں جو کچھ آیا ہے، اسی کو اصل پیغام بنانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل وقت میں اللہ سے دعا کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا عمل ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بدر کے دن اللہ کے عہد اور وعدے کا ذکر کیا۔
- حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ محبت اور فکر کے ساتھ موجود تھے۔
