صحیح بخاری حدیث ۴۸۷۷ - بدر، دعا اور قیامت کی آیت

بدر کے دن نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا اور سيهزم الجمع کی تلاوت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۷۷

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ : "أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ أَبَدًا " ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ فِي الدِّرْعِ ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ : " سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ { 45 } بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ { 46 } سورة القمر آية 45-46 " .

ابن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپ بدر کی لڑائی کے موقع پر میدان میں ایک خیمے میں یہ دعا کر رہے تھے کہ ”اے اللہ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ نصرت یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تو چاہے کہ (مسلمانوں کو فنا کر دے) تو آج کے بعد پھر کبھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔“ اور اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا: بس یا رسول اللہ! آپ اپنے رب سے خوب الحاح و زاری کے ساتھ دعا کر چکے ہیں۔نبی کریم اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ باہر تشریف لائے تو آپ کی زبان مبارک پر یہ آیت تھی «سيهزم الجمع ويولون الدبر * بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر» یعنی ”عنقریب کافروں کی یہ جماعت ہار جائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ لیکن ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت ہی کڑوی چیز ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۴۸۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں غزوہ بدر کا ایک اہم منظر بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم اپنے خیمے میں دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ یاد دلاتا ہوں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلى الله عليه وسلم کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا کہ آپ اپنے رب سے بہت دعا کر چکے ہیں۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم زرہ پہنے ہوئے باہر آئے اور آپ صلى الله عليه وسلم کی زبان پر «سيهزم الجمع ويولون الدبر» اور «بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر» تھا۔ اس روایت میں بدر کی دعا، نصرت الٰہی، اور قیامت کی یاد ایک ساتھ آتے ہیں، مگر شرح اسی متن تک محدود رہنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بدر کے دن اللہ سے عاجزی کے ساتھ دعا کی۔
  • حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے محبت سے نبی صلى الله عليه وسلم کا ہاتھ پکڑا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اس موقع پر سورۃ القمر کی آیات تلاوت فرمائیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں