صحیح بخاری حدیث ۴۹۳۲ - کالقصر کا مطلب
کالقصر کی تفسیر: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی آسان وضاحت
صحیح بخاری : ۴۹۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۳۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصَرِ ، قَالَ : " كُنَّا نَرْفَعُ الْخَشَبَ بِقَصَرٍ ثَلَاثَةَ أَذْرُعِ ، أَوْ أَقَلَّ ، فَنَرْفَعُهُ لِلشِّتَاءِ ، فَنُسَمِّيهِ الْقَصَرَ " .
عبدالرحمٰن بن عابس روایت:
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے (تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۳۲ کا خلاصہ
یہ روایت کالقصر کی تفسیر کے بارے میں ہے۔ عبدالرحمٰن بن عابس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت إنها ترمي بشرر كالقصر کے بارے میں پوچھا۔ آیت میں جہنم کے انگاروں کو قصر جیسا بتایا گیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس لفظ کو روزمرہ مثال سے سمجھایا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے، خاص طور پر جاڑوں کے لیے، تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں۔ ان لکڑیوں کو وہ قصر کہتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کے لفظ کو سمجھنے کے لیے عربی استعمال اور لوگوں کے معروف الفاظ کو دیکھا جاتا تھا۔ اس روایت کا اصل فائدہ یہی ہے کہ قرآن کی تفسیر میں صحابہ کی وضاحت سادہ مثالوں سے بھی ہوتی تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کے الفاظ کو سمجھنے میں صحابہ کی وضاحت اہم رہنمائی دیتی ہے۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کالقصر کو ایک معروف لکڑی کی مثال سے سمجھایا۔
- قرآنی لفظ کا مطلب کبھی عربوں کے عام استعمال سے واضح ہوتا ہے۔
- اس روایت میں آیت کی تشریح متن کے لفظی معنی کے ساتھ کی گئی ہے۔
